اتوار 4 اکتوبر 2026 - 21:06
شہدائے شبِ عاشور نے ذکرِ امام حسینؑ اور عزاداری کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وفاداریِ حسینیؑ کی عظیم مثال قائم کی: علامہ مقصود علی ڈومکی

حوزه/شہدائے سانحہ شبِ عاشور جیکب آباد کی گیارہویں برسی کی مناسبت سے علامہ مقصود علی ڈومکی اور برادر اللہ بخش سجادی حافظ دھنی بخش نے مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات سے ملاقات کی اور شرکت کی دعوت دی۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے شہدائے سانحہ شبِ عاشور جیکب آباد کی گیارہویں برسی اور عظمتِ شہداء کانفرنس کے سلسلے میں مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں جمعہ 23 اکتوبر کو منعقد ہونے والی برسی کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔

شہدائے شبِ عاشور نے ذکرِ امام حسینؑ اور عزاداری کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وفاداریِ حسینیؑ کی عظیم مثال قائم کی: علامہ مقصود علی ڈومکی

علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایم این اے میر اعجاز حسین خان جکھرانی کے صاحبزادے و فوکل پرسن میر رافع حسین خان جکھرانی، ایم پی اے جیکب آباد حاجی شیر محمد مغیری، جیکب آباد یوتھ ونگ کے ضلعی صدر میر مظفر ٹالانی، استاد رفیق احمد ڈومکی سمیت دیگر شخصیات سے ملاقات کی اور انہیں شہدائے جیکب آباد کی برسی میں شرکت کی دعوت دی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ شہدائے سانحہ شبِ عاشور جیکب آباد نے ذکرِ امام حسینؑ اور عزاداریِ سیدالشہداء کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وفاداریِ حسینیؑ کی عظیم مثال قائم کی۔ ان شہداء کا پاکیزہ لہو جیکب آباد کی تاریخ کا روشن باب اور قوم کے لیے جرأت، استقامت اور قربانی کی علامت ہے۔ ہر سال شہدائے راہ حق کی برسی کے موقع پر شہداء کی قربانی کو عشقِ حسینؑ، جرأت اور حسینی جدوجہد کے تسلسل کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء صرف ہمارے ماضی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن پیغام ہیں۔ شہداء نے اپنے خون سے یہ پیغام دیا کہ ظلم، دہشت گردی اور خوف کی تاریکی میں حق، عزاداری اور اہلِ بیتؑ سے محبت کی روشنی کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں اور شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرتیں بلکہ ان کے افکار، قربانیوں اور مشن کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ جیکب آباد کے شہداء کی یاد صرف ایک برسی کی تقریب نہیں بلکہ پاکستان میں امن، اتحاد، مذہبی رواداری اور دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ شہداء کے خون نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر شہری کو جان، مال، عزت اور مذہبی آزادی کا تحفظ حاصل ہو۔

شہدائے شبِ عاشور نے ذکرِ امام حسینؑ اور عزاداری کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وفاداریِ حسینیؑ کی عظیم مثال قائم کی: علامہ مقصود علی ڈومکی

میر رافع حسین جکھرانی سے ملاقات کے موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے انہیں روضہ مبارک حضرت امام حسین علیہ السلام کی تصویر کے فریم کا تحفہ پیش کیا۔

برسی شہداء کے سلسلے میں حافظ دھنی بخش جعفری کہا کہ 23 اکتوبر کی عظمتِ شہداء کانفرنس میں شہدائے جیکب آباد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے ان عظیم شہداء کو بھی سلام عقیدت پیش کیا جائے گا جو وقت کے یزیدوں کے مقابلے میں صبر و استقامت اور جہاد فی سبیل اللہ کی علامت ہیں۔

عظمت شہداء کانفرنس میں سندھ اور بلوچستان بھر سے علماء کرام، دینی و سماجی شخصیات، سیاسی رہنماؤں، تنظیمی ذمہ داران اور مومنین کرام شریک ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha